!سعودی عرب! اسلامی ریاست یا سلطنت سعود

 سعودی عرب، جیسا کہ نام سے ہی واضح ہے “سعود کا عرب”۔ نہ تو اس ریاست کا نام اسلامی ہے اور نہ ہی اسکی حکمت عملی اور سیاسی مصلحتیں اسلامی ہیں۔سعودی عرب  ایک شاہی خاندان کی حکومت کا نام ہے جو اپنے برطانوی آقا کی مہربانی سے اس جگہ پر حکمران ہے جہاں دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہے۔اس کے علاوہ یہ شاہی خاندان مسلمانوں کی سب سے مقدس جگہوں(مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) کے محافظ ہونے کے  بھی دعویدار ہیں، اور جب کبھی بھی اپنی غفلت یا  غلط  سیا سی حکمت عملی کی وجہ سے بادشاہت کو  خطرہ محسوس کرتے ہیں تو اس خطرے کوپوری دنیا کے مسلمانوں کے سامنے، عالم اسلام پر خطرہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔  مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ تمام مسلم دنیا کی بجائے اسکے سب سے مضبوط مراسم امریکہ، برطانیہ، روس ، اسرائیل ،  یورپین اور مغربی ممالک سے ہیں، اور پوری مسلم دنیا انہی مغربی ریاستوں کے بپا کئے ہوئے مظالم کا شکار ہے جو ان ریاستوں نے معدنیات اور ذخائر کی لالچ میں پوری دنیا میں روا رکھا ہوا ہے۔

۔

NARA0706004j

تمام دنیا کے مسلما ن  حجاز مقدس کی سرزمین پر سالانہ حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے آتے ہیں، جس پر ہر سال نیا ٹیکس اور ویزہ کی فیسوں میں اضافہ متعارف کروا دیا جاتا ہے اور کھربوں روپے سعودی عرب کے خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔  دوسری جانب سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے تیل کےذخائر کا مالک ہے۔2016 میں ایران کی حکومت نے حج زائرین کو سعودی عرب جانے سے روک دیا جس سے سعودی عرب کو خاصہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن اسکا مداوہ مسلمانوں کوپانچ گناتک  حج و عمرہ کی فیسوں کی ادایئگی کی صورت میں ادا کرنا پڑا  اور سعودی عرب میں ملازمین کو بھی تنخواہوں میں خاطر خواہ کمی برداشت کرنا پڑی،لیکن مجال ہے  جو سعودی بادشاہ اور شہزادوں کی شاہ خرچیوں میں ذرہ برابر بھی فرق پڑا ہو۔ اگر سعودی عرب مسلم امہ کی مقدس زمین ہے تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مظلوم، کمزور، اور  ضرورت مند مسلم امہ کابھی  غیر شرط حق ہے ۔ کیا آج تک سعودی عرب نے مسلم امہ کو یکجا کرنے یا مسلمان ممالک کی فلاح کے لئے کا کوئی قدم اٹھا یا ہے، بلکہ مسلم ممالک بشمول پاکستان کو سعودی عرب کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، جس میں 1980 سے لے کر اب تک پاکستان کے منتخب مدرسوں میں نام نہاد جہاد کی تربیت کے لئے فنڈ دینا بھی شامل ہے ۔

tax9dkpphtpp0xfptd2q

 پوری مسلم امہ اس وقت جس انتشار کا شکار ہے، سعودی  عرب کوئی مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے اپنی بادشاہت بچا نے میں مصروف ہے۔کیا وجہ ہے کہ سعودی عرب کی زیادہ تر چپقلش اور تنازعات مسلم ممالک کے ساتھ ہیں اور انکے ساتھ باقائدہ جنگ میں مصروف ہے مثال کے طور پر یمن میں مسلمانوں کے خون کا سہرابھی سعودی بادشاہت کے سر ہے۔علاوہ ازیں شام میں چھڑی ہوئی جنگ میں سعودی عرب کی سیاست کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2017 میں سعودی عرب کے دورے پر سعودی فرمانروا سے 350بلین امریکی ڈالرکا اسلحہ بیچنے کا معائدہ کیا ہے جسکی ایک قسط 110 بلین ڈالریکمشت ادا کی جانی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ صاحب کی آمد کے نتیجہ میں سعودی عرب نے اپنے ہمسایہ دوست ملک قطر سے بھی ہر طرح کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

 

سوال یہ ہے کہ ایسی کونسی بغاوت یا جنگ کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے اتنا اسلحہ خریدنے کی ضرورت پیش آئی؟ اپنے قریبی دوست امریکہ کی اسلحہ کی صنعت کو منافعہ بخش فروغ دینے کے لئے یا شام میں جنگ کو بڑھاوا دینے کے لئے، یا پھر یمن سے جنگ لڑنے کے لئے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *